ادھورا کام
سرکارِمکَّہ مکرَّمہ،سردارِمدینہ
منوَّرہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا ، '' جوبھی اَھَمّ کام بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے ساتھ شُروع نہیں کیا جاتا وہ
اَدھورارَہ جاتاہے۔(الدُّرُّالْمَنْثُور ج ۱ ص ۲۶)
بسم اللہ پڑھے جائیے
کھانے کِھلانے،پینے پِلانے ، رکھنے اُٹھانے،
دھونے پکانے ، پڑھنے پڑھانے، چلنے (گاڑی وغیرہ)چلانے ، اُٹھنے اٹھانے، بیٹھنے
بٹھانے، بتّی جلانے، پنکھا چلانے، دسترخوان بچھانے بڑھانے، بِچھونا لپیٹنے بچھانے،
دکان کھولنے بڑھانے، تالا کھولنے لگانے، تیل ڈالنے عطرلگانے، بیان کرنے نعت شریف
سنانے، جوتی پہننے عمامہ سجانے، دروازہ کھولنے بند فرمانے، اَلَغَرَض ہر جائز کام
کے شروع میں (جبکہ کوئی مانِعِ شَرْعی نہ ہو ) بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھنے کی عادت بنا کر اِس کی بَرَکتیں
لُوٹنا عین سَعادت ہے۔
جِنّات سے سامان كی حفاظت
كا طریقہ
حضرتِ سیِّدُناصَفوان بن سُلَیم رحمۃ
اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ، '' انسان کے سازو سامان اورمَلبوسات کو جنّات
استِعمال کرتے ہیں۔لھٰذا تم میں سے جب کوئی شخص کپڑا (پہننے کے لئے )اٹھائے یا
(اُتار کر)رکھے تو ''بسم اللہ شریف'' پڑھ لیا کرے۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا نام
مُہر ہے۔''(یعنی بسم اللہ پڑھنے سے جِنّات ان کپڑوں کو استِعمال نہیں کریں گے۔)
(لقط المرجان فی احکام الجان لِلسُّیوطی ص ۹۸)
اسی طرح ہر چیز رکھتے اُٹھاتے بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھنے کی عادت بنانی چایئے۔ اِن
شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ شریر جنّات کی دست بُرد سے حفاظت حاصِل
ہو گی۔
بسم اللہ دُرُست پڑھئے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھنے میں دُرُست مَخارِج سے حُرُوف کی ادائیگی لازِمی ہے۔ اور کم از
کم اتنی آواز بھی ضَروری ہے کہ رُکاوٹ نہ ہونے کی صورت میں اپنے کانوں سے سُن سکیں۔ جلد بازی میں بعض لوگ حُرُوف چَبا جاتے
ہیں۔ جان بوجھ کر اِس طرح پڑھنا ممنوع ہے اور معنیٰ فاسد ہو نے کی صورت میں گُناہ
۔ لھٰذا جلدی جلدی پڑھنے کی عادت کی وجہ سے جو لوگ غَلَط پڑھ ڈالتے ہیں وہ اپنی
اِصلاح کر لیں نیز جہاں پوری پڑھنے کی کوئی خاص وجہ موجود نہ ہو وہاں صِرْف ''بسْمِ
اللہ '' کہہ لیں تب بھی دُرُست ہے۔
کَھلبَلی مچ گئی
حضرتِ سیِّدُناجابِربن عبداﷲرضی اﷲ
تعالیٰ عنہ نے فرمایا،جب بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
نازِل ہوئی توبادَل مشرِق کی سَمْت دوڑے ، ہوائیں ساکِن ہو گئیں ،
سَمُندرجوش میں آگیا،چَوپایوں نے غورسے سننے کیلئے اپنے کان لگادئیے اورشیطا نوں
کوآسمانوں سے پتَّھرمارے گئے اوراﷲ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا،''مجھے میری عزَّت
وجلال کی قسم!جس شئے پر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھی گئی میں اِس میں بَرَکت دوں گا۔''(الدُّرُّالْمَنْثُور
ج ۱ ص ۲۶)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پارہ ۱۹سورۃُ النَّمْل کی تیسویں آیت کاحصّہ
بھی ہے اورقراٰنِ مجیدکی ایک پوری آیتِ مبارَکہ بھی جوکہ دوسورَتوں کے مابَین ۱ ؎ فاصِلہ کیلئے اُتاری گئی۔(حَلْبِی
کبیر ص۳۰۷)
۱ یعنی درمیان۔
بِسْم اللہ
كی"ب"كی جامِعِیَّت
اﷲ عَزَّوَجَلَّ نے بعض انبیاء علیھِمُ
الصّلٰوۃُ وَالسَّلام پرصَحائِف اورکُتُب نازِل فرمائیں جن کی
تعداد ۱۰۴ ہے۔ ان میں سے60 صَحِیفے حضرتِ
سیِّدُنا شُعیب عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلا
م پر،30 صَحِیفے حضرت سیِّدُناابراہیم خلیلُ اﷲ عَلٰی
نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام پر،10صَحِیفے
حضرتِ سیِّدُناموسیٰ کلیمُ اﷲ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ
الصَّلوٰۃُ وَالسَّلا م پرتَورات شریف اترنے سے قبل نازِل ہوئے
نیزچاربڑی کِتابیں نازِل ہوئیں:ـ
(۱)تَورات شریف حضرتِ سیِّدُناموسیٰ کلیم ُاﷲ عَلٰی
نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلا م پر ۔ (۲)زَبورشریف حضرتِ سیِّدُناداو'د عَلٰی
نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلا م پر۔ (۳)اِنجیلِ مُقدَّس حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ
روحُ اﷲ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلا م پر
۔ اور(۴)قراٰنِ مُبین جناب
رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر۔ ان تمام کتابوں اور
جُملہ صَحائِف کامَتَن اورمَضامین قراٰنِ مجیدمیں اورسارے قراٰنِ مجیدکامضمون سورہ
فاتِحہ میں اورسورہ فاتِحہ کا سارا مضمون بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں اور بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کاسارامضمون اس کے حَرْف''ب''میں
موجودہے،اوراسکے معنیٰ یہ ہیں کہ بِیْ کانَ مَاکانَ وَبِیْ یَکُوْنُ
مَایَکُوْنُ۔ (یعنی جوکچھ بھی ہے مجھ(یعنی
اﷲعَزَّوَجَلَّ)ہی سے ہے اورجوکچھ ہوگامجھ(یعنی اﷲ
عَزَّوَجَلَّ)ہی سے ہوگا۔ )(اَلمَجَالِسُ السَّنِیَّۃ ص۳)
اِسمِ اعظم
حضرتِ سیِّدُناعبداﷲابنِ عباّس رضی اﷲ
تعالیٰ عنہماسے رِوایت ہے کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُناعُثْمان اِبْنِ
عفَّان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے نبیوں کے سلطان ،سَروَرِ ذیشان،سردارِ دو جہان، صلی
اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْم (کی فضیلت )کے بارے میں
اِسْتِفْسار (اِسْ۔تِفْ۔سار)کیا،تواللہ کے مَحْبوب، دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ
عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا،''یہ
اﷲعَزَّوَجَلَّ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اﷲعَزَّوَجَلَّ کے اِسمِ اَعْظم
اوراسکے درمِیان ایساہی قُرب ہے جیسے آنکھ کی سِیاہی(پُتلی)اور سفیدی میں۔'' (اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحاکِم ج اوّل ص۷۳۸ رقم الحدیث ۲۰۷۱)
اِسمِ اعظم کے ساتھ دُعا
قبول ہوتی ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ''اِسمِ
اعظم'' کی بَہُت بَرَکتیں ہیں،اِسمِ اعظم کے ساتھ جو دُعاء کی جائے وہ قَبول
ہوجاتی ہے ، ''سرکارِ اعلٰیحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدِ ماجِد حضرت رئیسُ
الْمُتَکَلِّمِیْن مولیٰنانَقی علی خان علیہ رحمۃ الحَنان فرماتے ہیں، ''بعض
عُلَماء نے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کو اِسمِ اَعظم
کہا ۔ سرکارِ بغدادحُضور ِغوثِ پاک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے منقُول ہے،بسم اﷲ زَبانِ عارِف (عارِف یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو
پہچاننے والا)سے ایسی ہے جیسےکلامِ خالِق عَزَّوَجَلَّ سے ''کُنْ ۔''('' کُنْ ''
یعنی ہو جا'')
زَبانِ عارِف (عارِف یعنی اللہ
عَزَّوَجَلَّ کو پہچاننے والا)سے ایسی ہے جیسےکلامِ خالِق عَزَّوَجَلَّ سے ''کُنْ
۔''('' کُنْ '' یعنی ہو جا'')
اپنے نیک اورجائز کاموں میں بَرَکت
داخِل کرنے کیلئے ہمیں پہلے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
ضَرورپڑھ لینا چاہے ۔
پُر اسرار بوڑھا اور کالا
جن
مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف علٰی
صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کی پُر بہار فضا ؤ ں میں ایک
بارامیرُالمؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ ا عظم اور دیگر صحابہ کرام علیھم
الرضوان میں قراٰن پاک کے فضائل پر مذاکرہ ہو رہا تھا۔ اِس دَوران حضرتِ سیِّدُنا
عَمْرْوبِن مَعدِیکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، یا امیرُالمؤمِنِین ! آپ
حضرات بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے عجائبات کو
کیوں بھول رہے ہیں، خدا کی قسم ! بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
بَہُت ہی بڑا عَجوبہ ہے ، امیرُالمؤمِنِین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ
اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے ،اے ابوثَور!(یہ
حضرت سیِّدُنا عَمْرْو بِن مَعدِی کرب کی کُنْیت تھی)آپ ہمیں کوئی عَجِیبہ سنایئے:
چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عَمْرْوبِن مَعدِی کرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
فرمایا،زمانہ جاہِلیّت تھا، قَحْط سالی کے دَوران تلاشِ رزْق کی خاطِرمیں ایک جنگل
سے گزرا، دُور سے ایک خَیمہ پر نظر پڑی، قریب ہی ایک گھوڑا اور کچھ مَویشی بھی نظر
آئے۔ جب قریب پہنچا تو وہاں ایک حسین و جمیل عورت بھی موجود تھی اورخَیمہ کے صِحن
میں ایک بوڑھا شخص ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔'' میں نے اُس کو دھمکاتے ہوئے کہا ،
''جو کچھ تیرے پاس ہے میرے حوالے کر
دے!''اُس نے کہا،'' اے آدَمی! اگر تو مِہمانی چاہتا ہے تو آجا اور اگر امداد درکار
ہے تو ہم تیری مدد کر یں گے۔'' میں نے کہا،''باتیں مت بنا، تیرے پاس جو کچھ ہے
میرے حوالے کر دے!'' تو وہ بوڑھاکمزوروں کی طرح بمشکِل تمام کھڑ ا ہوا اور بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ کر میرے قریب آیا اور نہایت پُھرتی
سے مجھ پر جَھپٹا اور مجھے پَٹَخ کر میرے سینے پر چڑھ بیٹھا اور کہنے لگا،'' اب
بول ! میں تجھے ذَبْح کر دوں یا چھوڑ دوں؟'' میں نے گھبرا کر کہا،''چھوڑ دو۔'' وہ
میرے سینے سے ہٹ گیا۔ میں نے دل میں اپنے آپ کو ملامت کی اور کہا،اے عَمْرْو! تُو
عَرَب کا مشہورشَہسُوار ہے اِس کمزور بوڑھے سے ہار کر بھاگنا نامَردی ہے اِس ذلّت
سے تو مر جانا ہی بہتر ہے۔ چُنانچِہ میں نے پھر اُس سے کہا،'' تیرے پاس جو کچھ ہے
میرے حوالے کر دے!''یہ سنتے ہی بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھ کر وہ پُراَسرار بوڑھا پھر مجھ پر حملہ آور ہوا اور چشمِ زَدَن
میں مجھے گرا کر سینے پر سُوار ہو گیا اور کہنے لگا،''بول، تجھے ذَبْحْ کر دوں یا
چھوڑ دوں؟'' میں نے کہا، مجھے مُعاف کر دو۔ اُس نے چھوڑ دیا مگر پھر میں نے اُس سے
سارے مال کا مُطالَبہ کر دیا۔ اُس نے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْم پڑھ کر پھر پچھاڑ کر مجھ پر قابو پا لیا، میں نے کہا ، مجھے چھوڑ دو!
اُس نے کہا،'' اب تیسری بار میں ایسے ہی نہیں چھوڑوں گا'' یہ کہکر اُس نے پکار
کرکہا، اے کنیز! تیز دھار دار تلوار لے آ! وہ لے آئی، اُس نے میرے
سَر کے اگلے حصّے کی چوٹی کاٹ ڈالی اور مجھے چھوڑ دیا۔ ہم عَرَبوں میں رَواج ہے کہ
جب کسی کی چوٹی کے بال کاٹ دیئے جاتے ہیں تو وہ دوبارہ اُگنے سے قَبل اپنے
گھروالوں کو منہ دکھاتے ہوئے شرماتا ہے۔ (کیوں کہ چوٹی کٹ جانا شکست خُوردہ کی
علامت ہے)چُنانچِہ میں ایک سال تک اُس پُراَسرار بوڑھے کی خدمت کا پابند ہو گیا۔
سال پورا ہو جانے کے بعد وہ مجھے ایک وادی میں لے گیا۔ وہاں اُس نے بُلند
آواز سے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھی تو تمام
پَرندے اپنے گھونسلوں سے باہَر نکل کر اُڑ گئے، دوبارہ اِسی طرح پڑھنے پر تمام
دَرِندے اپنی اپنی پناہ گاھوں سے باہَر چلے گئے ۔ پھر تیسری بار زور سے پڑھنے پر
اُونی لباس میں ملبوس کَھجور کے تنے جِتنا لمبا خوفناک کالا جِنّ ظاہِر ہو ا، اُس
کو دیکھ کر میرے بَدَن میں جُھر جُھری کی لہر دوڑ گئی۔ پُراَسرار بوڑھے نے کہا، اے
عَمْرْو! ھمّت رکھ، اگر یہ مجھ پر غَلَبہ پا لے تو کہنا ، اب کی بار میرا ساتھی بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کی بَرَکت سے غالِب ہو گا!'' پھروہ
پُراَسرار بوڑھا اور کالا جِنّدونوں گُتَّھم گُتّھا ہو گئے ، پُراَسرار بوڑھا ہا ر
گیا اور کالا جِنّ اُس پر غالِب آ گیا۔ اِس پر میں نے کہا، ابکی بار میرا ساتھی
لات و عُزّٰی(یعنی کافِروں کے ان دونوں بُتوں)کی وجہ سے جِیت جائے گا۔ یہ سُن کر
پُراَسرار بوڑھے نے مجھے ایسا زور دار طمانچہ رسید کیا کہ مجھے دن دِہاڑے تارے نظر
آ گئے اور ایسا محسوس ہوا کہ
ابھی میرا سر اُکھڑکر دَھڑ سے جُدا ہو جائیگا۔ میں نے معذِرت چاہی اور کہا کہ
دوبارہ ایسی حَرَکت نہیں کروں گا۔ چُنانچِہ دونوں میں پھر مقابلہ ہوا۔ پُراَسرار
بوڑھا اُس کالے جِنّ کو دبوچنے میں کامیاب ہو گیا تو میں نے کہا،
''میرا ساتھی بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کی بَرَکت سے غالِب آ گیا۔'' یہ کہنے کی
دیر تھی کہ پُراَسرار بوڑھے نے نہایت پُھرتی کے ساتھ اُس کو زمین میں لکڑی کی طرح
گاڑ دیا اور پھر اُس کا پیٹ چِیر کر اُس میں سے لالٹین کی طرح کوئی چیز نکالی اور
کہا ، ''اے عَمْرْو! یہ اس کا دھوکہ اور کُفْر ہے۔ ''میں نے اُس پُراَسرار بوڑھے
سے اِسْتِفسار کیا، آپ کا اور اِس کالے جِنّ کاقِصہ کیا ہے؟ کہنے لگا، ایک نصرانی
جِنّ میرا دوست تھا، اُس کی قوم سے ہر سال ایک جِنّ میرے ساتھ جنگ لڑتا ہے اور
اللہ عَزَّوَجَلَّ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کی
بَرَکت سے مجھے فَتْح عطا فرماتا ہے۔
پھر ہم آگے بڑھ گئے ۔ ایک مقام پر وہ پُراَسرار بوڑھا جب غافِل ہو کر سو
گیا تو موقع پا کر میں نے اُس کی تلوارچھین کر نہایت پُھرتی کے ساتھ اُس کی
پنڈلیوں پر ایک زَور دار وار کیا جس سے دونوں ٹانگیں کٹ کر جسم سے جُدا ہو گئیں،وہ
چیخنے لگا،''اَوغدّار !تُو نے مجھے سَخْت دھوکہ دیا ہے ! ''مگر میں نے اُس کو
سنبھلنے کاموقع ہی نہ دیا، پَے در پَے وار کر کے اُس کے ٹکڑے ٹکرے کر ڈالے! پھر جب
میں خَیمہ میں واپَس آیا تو وہ کنیز بولی، اے عَمْرْو! جِنّ سے مقابلے کا کیا بنا؟
میں نے کہا،
بوڑھے شیخ کو جنّات نے قتل کر دیا ہے۔
وہ کہنے لگی، تُو جھوٹ بول رہا ہے۔ اَو بے وفا ! اُس کے قاتِل جنّات نہیں بلکہ تُو
خُود ہے۔ یہ کہکر اُس نے بیقرار و اشکبار ہو کر عَرَبی میں پانچ اَشعار پڑھے جن کا
ترجَمہ ہے،
(۱) اے میری آنکھ تو اُس بہادُرشَہسُوار پر خو ب رو اور پے دَر پے
آنسوبہا ۔ (۲) اے عَمْرْو تیری زندگی پر
افسوس ہے، حالانکہ تیرے دوست کو زندگی نے موت کی طرف دھکیل دیا ہے ۔
(۳) اور (اے عَمْرْواپنے دوست کو اپنے ہاتھوں )قتل کرنےکے بعد تُو(اپنے
قبیلے)بنی زُبَیدہ اور کُفّار (یعنی ناشکروں)کے گُروہ کے سامنے کس طرح فَخر کے
ساتھ چل سکتاہے ۔(۴)مجھے میر ی عُمْر کی قسم!(اے
عَمْرْو)اگرتُو لڑنے میں واقِعی سچا ہوتا (یعنی بِغیر دھوکہ دیئے مَردوں کی طرح اس
سے مقابلہ کرتا) تو اُس کی طرف سے ضَرور تیزدھار دار تلوار تجھ تک پَہُنچ کر رَہتی
(اورتیرا کام تمام کردیتی ) (۵)
(اے اُس بوڑھے کو قتل کرنے والے) بادشاہِ حقیقی (اللہ تعالیٰ)تجھے بُرا اور ذِلّت
والا بدلہ دے (تیرے جُرم کے بدلے میں )اور تجھے بھی اس کی طرف سے ذِلّت ورُسوائی
والی زندگی ملے (جسطرح کہ تونے اپنے دوست کے ساتھ ذِلّت ورُسوائی والا سُلوک کیا
ہے)
میں جَھلّا کر قتل کرنے کیلئے اُس پر
چڑھ دَوڑا مگر وہ حیرت انگیز طور پر میری نظروں سے اَوجھل ہو گئی گویا اُس کوزمین
نے نگل لیا!(مُلَخَّص از: لقط المرجان فی احکام الجان لِلسُّیوطی ص ۱۴۱تا۱۴۳)
پانچ عادَتیں
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عَمْرِو
بْنُ الْعاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشادِ سعادت بُنیاد ہے، پانچ عادَتیں ایسی
ہیں کہ کوئی انھیں اختیار کرلے تو دنیا و آخِرت میں سعادت مند ہو جائے ۔ (۱)وَقتاًفَوقتاً ، لَآ
اِلٰہَ اِلَّاا للہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ
اللہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کہتا رہے (۲)جب کسی مصیبت میں مبتَلا ء ہو(مثلاً
بیمار ہو یانقصان ہو جائے یا پریشانی کی خبر سنے)تو اِنَّا
لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن اور لَاحَوْلَ
وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم پڑھے (۳) جب بھی نعمت ملے تو شُکرانے میں اَلْحَمْدُ
لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہے (۴)جب کسی (جائز)کام کا آغاز کرے تو بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے اور (۵)جب گُناہ کر بیٹھے تو یوں کہے، اَسْتَغْفِرُ
اللہَ الْعَظِیْمَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ (یعنی میں(زُبدَۃُ
الْمقَامات ص ۱۹۲)
جیسا دروازہ ویسی بھیک
مفَسّرِشَہِیرحضرتِ مفتی احمد یار خان
علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں ،اﷲ تعالیٰ نے بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں اپنے اِسمِ ذات کے ساتھ رَحْمت کی
دو صِفات کا بیان فرمایا ہے کیوں کہ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے نامِ مبارَک میں ہیبت تھی
اور رَحْمٰن اور رَحِیم میں رَحمت ۔ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کا نام سن کر نیک بندوں کو
بھی کچھ عرض کرنے کی جُرْأَت (جُرْ۔ءَتْ )نہ ہوتی تھی لیکن رَحْمٰن اور رَحِیم سن
کر ہر مجرِم اور خطاکار کو بھی عرض کرنے کی ہّمت پڑی اور حقیقت بھی یِہی ہے، اس کے
جلال کے سامنے کون دَم مار سکتا ہے اور ظُہُورِ جمال کے وَقْت ہر ایک ناز کر سکتا
ہے۔''تفسیر کبیر شریف'' میں اس کے ماتحت ایک عجیب حِکایت لکھی ہے کہ ایک سائل ایک
بَہُت بڑے مالدار کے عظیمُ الشَّان دروازے پر آیا اور کچھ سُوال کیا ، مکان میں سے
معمولی سی چیز آئی ۔ فقیرنے لے لی اور چلا گیا۔ دوسرے دن ایک بہت مضبوط پھاؤڑا لے
کر آیا اوردروازہ کھودنے لگا، مالِک نے پوچھا ،یہ کیا کرتا ہے ؟ فقیر نے کہا ،
''یا تو عطا کو دروازے کے لائق کریا دروازہ عطا کے لائق کر'' یعنی جب دروازہ اتنا
بڑا بنایا ہے تو ضَروری ہے کہ بڑے دروازے سے بڑی ہی بھیک ملا کرے کیونکہ عطا
دروازے اور نام کے لائق ہی ہونی چاہیے۔ہم
فقیر گنہگار بندے بھی عرض کرتے ہیں،اے مولیٰ!عَزَّوَجَلَّ ہم کو ہمارے لائِق نہ دے
بلکہ اپنے جُودو سخا کے لائق دے۔ بیشک ہم گُنہگار ہیں لیکن تیری غَفّاری ہماری
گنہگاری سے وسیع ہے (تفسیرِ نعیمی پہلا پارہ ص ۴۰)
رحمت بھری حِکایت
دو بھائی تھے ، ایک پرہیز گار دوسرا بد
کار۔ جب بدکار مرنے لگا تو پرہیز گار بھائی نے کہا ، دیکھا تجھے میں نے بَہُت سمجھا
یا مگرتُو اپنے گناہوں سے باز نہ آیا، اب بول تیرا کیا حال ہوگا؟ اُس نے جواب دیا
کہ اگر قِیامت کے روز میرا ربّ عَزَّوَجَلَّ میرا فیصلہ میری ماں کے سِپُرد کر دے
تو بتاؤ کہ ماں مجھے کہاں بھیجے گی دوزخ میں یا جنّت میں؟پرہیز گار بھائی نے کہا کہ ماں تو واقعِی جنّت میں ہی بھیجے گی ۔ گہنگار
نے جواب دیا ''میرا ربّ عَزَّوَجَلَّ میری ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔''یہ کہا
اور انتِقال ہوگیا ۔ بڑے بھائی نے خواب میں اُسے نہایت خوشحال دیکھا، مغفِرت کی
وجہ پوچھی ، کہا، مرتے وَقْت کی اُسی بات نے میرے تمام گناہ بخشوادیئے۔ اﷲ
عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری مغفِرت ہو۔
واقِعی اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی رَحْمت بَہُت بڑی ہے ، زَبان سے نکلا ہوا ''ایک لفْظ '' مغفِرت کا
سبب بھی ہو سکتا ہے اور ہَلاکت کا بھی ۔ جیسا کہ ابھی حِکایت میں آپ نے سنا کہ ایک
جُملے نے اُس گنہگار کا بیڑا پار کروادیا ۔ اِسی طرح ہلاکت کی مِثال یہ ہے کہ اگر
کوئی زَبان سے صَریح کُفْر بک دے اور توبہ کئے بِغیرمرجائے تو ہمیشہ کیلئے جھنَّم
اُس کا مُقدَّر ہے۔
یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مَشِیَّت پر ہے کہ اگر چاہے تو کسی ایک
گُناہ پر گَرِفت فرما لے اور چاہے تو کسی ایک نیکی پرنَواز دے۔ یامَحض اپنے فضل و
کرم سے یوں ہی نواز دے۔ چُنانچِہ پارہ ۲۴ سورۃُ الزُّمُر کی آیت نمبر ۵۳ میں خدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ مغفِرت نشان ہے،
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا
تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ
اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۳﴾
ترجَمَہ کنزُالایمان: تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں
پر زِیادَتی کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے نا اُمّید نہ ہو، بے شک اللہ
عَزَّوَجَلَّ سب گناہ بخش دیتا ہے۔ بے شک وُہی بخشنے والا مہربان ہے ۔
بخاری شریف کی حدیث میں یہ مضمون موجود ہے کہ
100 افراد کا قاتل بخشا گیا
بنی اِسرائیل کا ایک شخص جس نے99 قَتْل
کئے تھے ایک راہِب ۱ ؎ کے پاس
پہنچا اور پوچھا ، کیا میرے جیسے مجرِم کیلئے کوئی توبہ کی گنجائش ہے؟ راہِب نے اسے مایوس کر دیا تو اُس نے راہِب کو بھی قَتْل کر
ڈالا ۔ مگر پھر نادِم ہوکر توبہ کا طریقہ لوگوں سے پوچھتا پھرا۔ آخِر کسی نے کہا
کہ فُلاں قَصبہ میں چلے جاؤ (وہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک ولی ہے وہ تمہاری
رہنُمائی کریگا ۔ )چُنانچِہ وہ اُس کی طرف چلد یا مگر راستے میں بیمار ہو گیا ۔ جب
قریبُ الْمَرْگ ہوا تو اس نے اپنا سینہ اُس قَصبہ کی طرف کردیا اور فَوت ہو گیا۔
اب اس کو لے جانے کے بارے میں رَحْمت و عذاب کے فِرشتوں میں اختِلاف ہوا۔ اللہ
عَزَّوَجَلَّ نے میِّت اورقَصبہ کے درمیان والے حصّہ زمین کو سِمٹ کر میِّت کے قریب
ہو جانے کا حُکْم فرمایا اور جِدھر سے وہ چلا تھا اور جہاں پَہُنچ کر فوت ہوا تھا
اُس درمیانی فاصِلے کو مزید طویل ہو جانے کا حُکْم فرمایا۔ پھر پیمائش کا حُکْم
فرمایا تو وہ جس قَصبہ کی طرف جا رہا تھا اُس سے ایک بالِشْت قریب پایا گیا اور
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس کی مغفِرت فرما دی۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث ۳۴۷۰ ج۲ ص ۴۶۶) اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری مغفِرت
ہو۔
۱ یعنی عیسائی عبادت گُزار
،تارک الدُّنیا
بسم اللہ کیجئے کہنا
ممنوع ہے
بعض لوگ اِس طرح کہہ دیتے ہیں،''بسم اﷲ
کیجئے !''''آؤجی بسم اﷲ!'' ''میں نےبسم اﷲ کرڈالی''،تاجِرحضرات جودن میں
پہلاسودابیچتے ہیں اُس کو عُمُوماً ''بَونی''کہا جاتاہے مگربعض لوگ اس کوبھی''بسم
اﷲ''کہتے ہیں ، مثلاً '' میری توآج ابھی تک بسم اﷲہی نہیں ہوئی!''جن جملوں کی
مثالیں پیش کی گئیں یہ سب غَلَط اندازہیں۔اسی طرح کھاناکھاتے وقت اگر کوئی آجاتاہے
تواکثر کھانے والااُس سے کہتاہے،آئیے آپ
بھی کھالیجئے،عام طورپرجواب ملتا ہے ، ''بسم اﷲ''یا اس طرح کہتے ہیں،''بسم
اﷲکیجئے!''بہارِشریعت حصّہ ۱۶
صفحہ ۳۲ پر ہے کہ ، ''اِس موقع پر اِس طرح بسم اﷲکہنے کوعُلَماء نے بَہُت سخْت
ممنوع قرار دیا ہے ۔ ''ہاں یہ کہہ سکتے ہیں،بِسم اﷲ پڑھ کر کھالیجئے۔بلکہ ایسے
موقع پردُعائیہ الفاظ کہنابہترہے،مَثَلًا باَرکَ
اللہُ لَنَا وَلَکُمْ یعنی اﷲ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اور تمہیں
بَرَکت دے ۔ یا اپنی مادری زَبان میں کہہ دیجئے ۔اﷲعَزَّوَجَلَّ بَرَکت دے ۔
بسم اللہ کہنا کب کُفر ہے
حرام وناجائزکام سے قبل بسم اﷲشریف
ہرگز،ہرگز،ہرگزنہ پڑھی جائے کہ''فتاویٰ عالمگیری '' میں ہے،''شراب پیتے
وَقْت،زِناکرتے وَقْت یا جُواکھیلتے وَقْت بسم اللہ کہناکُفْر ہے۔ ''(فتاوی
عالمگیری ج ۲ ص۲۷۳)
فِرشتے نیکیاں لِکھتے
رہتے ہیں
حضرتِ سیِّدُناابُوہُریرہ ر ضی اﷲ
تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِمدینہ، سلطانِ باقرینہ ،قرارِ قلب وسینہ،فیض
گنجینہ،صاحِبِ مُعَطّر پسینہ ،باعثِ نُزُولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے ارشاد فرمایا ، اے ابُوہریرہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)''جب تم وُضوکر و تو بسم
اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ کہہ لیاکروجب تک تمھارا وُضوباقی رہے
گااُس وَقْت تک تمھارے فِرِشتے(یعنی کِراماً کاتِبِین )تمہارے لئے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔'' (طَبَرانی صَغیرج۱ص۷۳ رقم الحدیث ۱۸۶)
ہرہر قدم پر ایک نیکی
جوشَخص کسی جَانورپرسُوارہوتے وَقت بسم
اﷲ اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ پڑھ لے تواُس
جَانورکے ہرقَدم پراُس سُوارکے حق میں ایک نیکی لکھی جائے گی۔ (تفسیرِ
نعیمی جلد اوّل ص۴۲)
کِشتی میں نیکیاں ہی
نیکیاں
جوشخص کِشتی میں سُوارہوتے وَقْت بسم
اﷲ اور اَلْحَمْدُللہ پڑھ لے ، جب تک
و ہ اُس میں سُوار رہے گااُسکے واسِطے نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی۔(تفسیرِ
نعیمی ج اول ص۴۲)
خوفناک زَہر
حضرتِ سیِّدُناخالِدبن ولیدرضی اﷲ
تعالیٰ عنہ نے مقامِ ''حیرہ'' میں جب اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ کیا تو لوگوں نے عرض
کیا ،یاسیِّدی! ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں یہ عجمی لوگ آپ کوزَہر نہ دے دیں لھٰذا
محتاط رہے گا۔ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، ''لاؤ میں دیکھ لوں کہ عَجَمِیّوں
کا زَہرکیسا ہوتا ہے ؟ ''لوگوں نے آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
کو دیا تو آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے "بِسمِ اللہ '' پڑھ
کر کھا لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ رضی اﷲ
تعالیٰ عنہ کو بال برابر بھی ضَرَر (یعنی نقصان)نہ پہنچا اور''کلبی'' کی روایت میں
یہ ہے کہ ایک عیسائی پادری جس کا نام عبدُالْمَسِیح تھا۔ ایک ایسا زَہر لے کر آیا
کہ اُس کے کھا لینے سے ایک گھنٹہ کے بعد موت یقینی ہوتی ہے ۔ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
نے اُس سے زَہر مانگ کر اُس کے سامنے ہی بِسْمِ
اللہِ وَ بِاللہِ رَبِّ الْاَرْضِ وَ السَّمَاءِ بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ
مَعَ اسْمِہٖ دَاءٌ پڑھا اور زَہر کھا گئے۔یہ منظر دیکھ کر
عبدُالْمَسِیح نے اپنی قوم سے کہا،''اے میری قوم! انتِہائی حیرتناک بات ہے کہ یہ
اتنا خطرناک زَہر کھا کر بھی زندہ ہیں، اب بہتر یِہی ہے کہ ان سے صُلْح کر لی
جائے، ورنہ ان کی فَتْح یقینی ہے۔''یہ واقعِہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ
سیِّدُناابوبکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دَورِ خِلافت میں ہوا۔ (مُلخَّص
ازحُجَّۃُ اللہِ عَلَی الْعٰلَمِین ج۲ ص ۶۱۷) اﷲ
عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو
دیکھا آپ نے ! سیِّدُنا خالِدبن ولیدرضی
اﷲ تعالیٰ عنہ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاکتنا خاص کرم تھا اور یقینا بِاِذْنِ اللہ
یہ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی کرامت تھی۔ کرامت کی بے شُمار اَقسام ہیں جن میں سے
ایک قِسم ''مُہْلِکات ( یعنی ہلاک کر دینے والی اَشیاء)کا اثر نہ کرنا'' بھی ہے۔
اَولیاء ُ اللہ رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی پر
بھی زَہر وغیرہ اثر نہ کرنے کے واقِعات منقول ہیں چُنانچِہ
آگ تھی یا باغ
ایک بد عقیدہ بادشاہ نے ایک خُدا رسیدہ بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوبَمَع
رُفَقاء گَرِفتار کر لیا اور کہا کہ کرامت دکھاؤ ورنہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو
ساتھیوں سمیت شہید کر دیاجائے گا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُونٹ کی مَینگنیوں
کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ان کو اُٹھا لاؤ اور دیکھو کہ وہ کیا ہیں؟ جب لوگوں
نے ان کو اٹھا کر دیکھا تو وہ خالِص سونے کے ٹکڑےتھے۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ
علیہ نے ایک خالی پیالے کواٹھا کر گھمایا اور اَوندھا کر کے بادشاہ کو دیا تو وہ
پانی سے بھرا ہوا تھا اور اوندھا ہونے کے باوُجُود اُس میں سے ایک قطرہ بھی پانی
نہیں گِرا۔ یہ دو کرامَتیں دیکھ کر بدعقیدہ بادشاہ کہنے لگا کہ یہ سب نَظَر بندی
اور جادو ہے۔ پھر بادشاہ نے آگ جلانے کاحُکم دیا ۔ جب آگ کے شُعلے بُلند ہوئے تو
وہ بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور اُن کے رُفَقاء آگ میں کود پڑے۔ ساتھ میں
چھوٹے سے شہزادے کو بھی لیتے گئے، بادشاہ اپنے بچے کو آگ میں گرتے دیکھ کر اُس کے
فِراق میں بے چَین ہو گیا، کچھ دیر کے بعد ننّھے شہزادے کو اس حال میں بادشاہ کی
گود میں ڈال دیا گیا کہ اس کے ایک ہاتھ میں سیب اور دوسرے ہاتھ میں انار تھا۔
بادشاہ نے پوچھا ، بیٹا! تم کہاں چلے گئے تھے ؟ تو اُس نے کہا، میں ایک باغ میں
تھا ، یہ دیکھ کر ظالم و بد عقیدہ بادشاہ کے درباری کہنے لگے اس کام کی کوئی حقیقت
نہیں(یہ جادو ہے )بادشاہ نے کہا، اگر تم یہ زَہر کا پیالہ پی لو تو میں تمھیں سچّا مان لوں گا۔اُن بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بار
بار زَہر کا پِیالہ پیا، ہر مرتبہ زَہْر کے اثر سے اُن بُزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ
علیہ کے فَقَط کپڑے پھٹتے رہے مگر اُن کی ذات پر زَہْر کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ (مُلخَّص
ازحُجَّۃُ اللہِ عَلَی الْعٰلَمِین ج۲ ص۶۱۱) اﷲ عَزَّوّجَلَّ
کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
فانوس بن کے
جس کی حفاظت '' ہَوا'' کرے
وہ
شَمْعْ کیا بُجھے
جسے روشن خدا
کرے
موٹا تازہ شیطان
ایک مرتبہ دو شیاطین میں ملاقات
ہوئی۔ایک شیطان خوب موٹاتازہ تھا ۔ جبکہ دوسرا دُبلاپتلا ۔ موٹے نے دُبلے سے
پوچھا، بھائی! آخِر تم اتنے کمزور کیوں ہو؟اُس نے جواب دیا،میں ایک ایسے نیک بندے
کےساتھ ہوں جو گھر میں داخِل ہوتے اور کھاتے پیتے وَقْت بِسمِ اﷲشریف پڑھ لیتاہے
تو مجھے اُس سے دُور بھاگنا پڑتا ہے ۔ یار ! یہ تو بتاؤ ! تم نے بَہُت جان بنا
رکھی ہے اِس میں کیا راز ہے؟ موٹابولا،''میں ایک ایسے غافِل شَخْص پرمُسلَّط ہوں
جو گھر میں بِسمِ اﷲپڑھے بِغیر داخِل ہوجاتا ہے اور کھاتے پیتے وَقت بھی بسمِ اللہ
نہیں پڑھتا لہٰذامیں اس کے ان تمام کاموں میں شریک ہو جاتا ہوں اور اس پر جانور کی
طرح سُوار رہتا ہوں ۔ (یہ راز ہے میری صحّت مندی کا)'' (اَسرارالْفاتِحہ
ص۱۵۵)
اِس حکایت سے
یہ درس ملتاہے کہ اگر ہم اپنے کاموں میں شیطان کی شرکت سے حفِاظت اورخیروبَرَکت کے
طلبگا ر ہیں۔توہرنیک کام کے آغازمیں بِسم اﷲپڑھا کریں ۔ بصورتِ دیگر ہر فِعل میں
شیطانِ لعین شریک ہوجائے گا۔ شیطان کی کثیر اولاد ہے اور ان کی مختِلف کاموں پر
ڈیوٹیاں لگی ہوئی ہیں چُنانچِہ حضرتِ علامہ ابنِ حَجَر عَسْقَلانی قُدِّ
سَ سِرُّہُ الرَّبّانی نَقْلْ کرتے ہیں، امیرُالْمُؤمِنِین
حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ شیطان کی اولاد
نو ہیں۔ (۱) زَلِیْتُون(۲) وَ ثِیْن(۳) لَقُوْس(۴) أَعْوَان(۵) ھَفَّاف(۶) مُرَّۃ (۷) مُسَوِّط
(۸) دَاسِم اور
(۹) وَلْھَان۔
زَلِیْتُون:۔ بازاروں میں مقرَّر ہے،اور وہاں اپنا جھنڈا گاڑے
رہتا ہے۔
وَ ثِیْن:۔ لوگوں کوناگہانی آفات میں مبتَلاء کرنے کے لئے
مقرَّر ہے۔
لَقُوْس:۔ آتَش پرستوں پر مقرَّر ہے۔
أَعْوَان:۔حُکمرانوں کے ساتھ ہو تا ہے۔
ھَفَّاف:۔ شرابیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
مُرَّۃ :۔ گانے باجے ،بجانے والوں پر مقرَّر ہے۔
مُسَوِّط:۔ افواہیں عام کرنے پر مقرَّر ہے ۔ وہ لوگوں کی
زَبانوں پر افَواہیں جاری کروا دیتا ہے،اور اَصْل حقیقت سے لوگ بے خبر رہتے ہیں۔
دَاسِم:۔گھروں میں مقرَّر ہے۔ اگر صاحبِ خانہ گھر میں داخِل ہو کر نہ سلام کرے
اور نہ بسم اللہ پڑھ کر قدم اندر رکھے ، تو یہ ان گھر والوں کو آپس میں لڑوا دیتا
ہے، حتّٰی کہ طلاق یا خُلَع یامار پیٹ تک نَوبت پَہُنچ جاتی ہے۔
وَلْھَان:۔ وُضُو،نَماز اوردیگر عبادات میں وسوسے ڈالنے کے لئے
مقرَّر ہے۔
(المنَبِّھات لِلْعَسقلانی، ص ۹۱)
گھریلو جھگڑوں کاعلاج
مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان
فرماتے ہیں ، گھر میں داخِل ہوتے وقت بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ
کر پہلے سیدھا قدم دروازہ میں داخِل کر نا چاہے پھر گھر والوں کو سلام کرتے ہوئے
گھر کے اندر آئیں۔اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو اَلسَّلامُ
عَلَیْکَ اَیُّہاَ النَّبِیُّ وَ رحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکاتُہ ٗ کہیں۔
بعض بُزُرگوں کو دیکھا گیا ہے کہ دن کی ابتِداء میں گھر میں داخِل ہو تے وقت بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اور قُلْ ھُوَ
اللہ شریف پڑھ لیتے ہیں کہ اس سے گھر میں اِتِّفاق بھی رَہتا ہے (یعنی
جھگڑا نہیں ہوتا )اور روزی میں بَرَکت بھی۔ (مِراٰۃالمناجِیح
ج ۶ ص ۹)
کھانے سے پہلے بسم اللہ
ضرور پڑھئے
کھانے پینے سے قَبْل بسم اﷲ پڑھنا سنَّت
ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا حُذَیْفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدار ِ مدینہ
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس کھانے پر بسم اﷲ
نہ پڑھی جائے وہ کھاناشیطان کے لئے حَلال ہو جاتا ہے (یعنی بسم اﷲ نہ پڑھنے کی
صُورت میں شیطان اُس کھانے میں شریک ہو جاتا ہے۔ )(صحیح مُسلم ج ۲ ص ۱۷۲ رقم الحدیث۲۰۱۷)
کھانے کو شیطان سے بچاؤ
کھانے سے پہلے بسم اﷲ نہ پڑھنے سے کھانے
میں بے بَرَکتی ہوتی ہے۔ حضرت سیِّدُنا اَبُو ایُّوب اَنصْاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
فرماتے ہیں ، ہم تاجدارِ رسالت ، ماہِ نُبُوَّت، مالکِ کوثر وجنّت، محبوبِ ربُّ
العزّت عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ سراپا رَحْمت
میں حاضِر تھے۔کھانا پیش کیا گیا، اِبتِداء میں اِتنی بَرَکت ہم نے کسی کھانے میں
نہیں دیکھی مگر آخِر میں بڑی بے بَرَکتی دیکھی ۔ ہم نے عرض کی ، یارسولَ اﷲ !
عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایساکیوں ہوا ؟ ارشاد فرمایا،
ہم سب نے کھانا کھاتے وَقْت بسم اﷲ پڑھی تھی ۔ پھر ایک شخص بِغیر بسم اﷲ پڑھے
کھانے کو بیٹھ گیا، اُس کے ساتھ شیطان نے کھانا کھا لیا۔(شَرْحُ
السُنَّہ ج ۶ ص ۶۲ رقم الحد یث ۲۸۱۸)
بسم اللہِ اَوَّلَہ
وَاٰخِرَہ
اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا
عائِشہ صِدّیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ تاجدارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ،
فیض گنجینہ ، صاحبِ مُعَطَّر پسینہ،باعثِ نُزولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
واٰلہٖ و سلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے، جب کوئی شخص کھانا کھائے تو اﷲعَزَّوَجَلَّ
کا نام لے۔ یعنی بسم اﷲ پڑھے اور اگر شُروع میں بسم اﷲ پڑھنا بھول جائے تو یوں
کہے، ''بسم اللہِ اَوَّلَہ ٗ وَ اٰخِرَہ ٗ "۔ (
ابوداو،دشریف ج ۳ ص ۳۵۶ رقم الحدیث۳۷۶۷)
شیطان نے کھانا اُگل دیا
حضرتِ سیِّدُنا اُ مَیَّہ بن مَخْشِی
رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ، حُضُور سراپا نور ، فیض گَنجور،شاہِ غَیُور ،
محبوبِ ربِّ غَفور عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف فرما
تھے ۔ ایک شخص بِغیر بسم اﷲ پڑھے کھانا کھا رہا تھا، جب کھا چُکااور صِرْف ایک ہی
لُقمہ باقی رَہ گیا تو وہ لُقمہ اُٹھایا اور اُس نے کہا ، بسم
اللہِ اَوَّلَہ ٗ وَ اٰخِرَہ ٗ ۔ تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے مسکرا کر ارشاد فرمایا ، شیطان اِس کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا،
جب اِس نے اﷲعَزَّوَجَلَّ کا نام لیا تو جو کچھ اُس کے پَیٹ میں تھا اُگل دیا۔(ابُوداو،دشریف،ج
۳ ص ۳۵۶ رقم الحدیث ۳۷۶۸)
نِگاہِ مصطفی سے کچھ
پوشیدہ نہیں
جب بھی کھانا کھائیں یا د کر کے بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیم پڑھ لیا کریں۔ جو نہیں پڑھتا اس کا قَرِین نامی
شیطان بھی کھانے میں ساتھ شریک ہو جاتا ہے ۔ سیِّدُنا اُمَیّہ بن مَخْشِی رضی اللہ
تعالیٰ عنہ والی رِوایت سے صاف ظاہَر ہورہا ہے کہ ہمارے میٹھے میٹھے آقا مدینے
والے مصطَفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مقدَّس نگاھیں سب کچھ دیکھ
لیا کرتی ہیں، جبھی تو شیطان کو قے کرتا ہوا ملاحَظہ فرمالیا اور شیطان کی بدحواسی
دیکھ کرمسکرادیئے۔ چُنانچِہ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں،
رحمتِ عالَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مقدَّس نظریں حقیقت میں چُھپی
ہوئی مخلوق کو بھی مُلاحَظہ فرماتی ہیں، اور حدیثِ مبارَک بِالکل اپنے ظاہِری
معنیٰ پر ہے کسی تاویل کی ضَرورت نہیں۔جیسے ہمارا پیٹ مکّھی والا کھانا (جبکہ
مکّھی اُس میں موجود ہو )قَبول نہیں کرتا۔ایسے ہی شیطان کا مِعدہ بسم اللہ والا
کھانا ہَضْم نہیں کر پاتا ۔ اگر چِہ اُس کا قے کیا ہوا کھانا ہمارے کام نہیں آتا
،مگر مردود بیمار پڑ جاتا ہے اور بھوکا بھی رَہ جاتا ہے اور ہمارے کھانے کی فوت
شدہ بَرَکت لوٹ آتی ہے ۔ غرضیکہ اس میں ہمارا فائدہ ہے اور شیطان کے دو نقصان اور
ممکن ہے کہ وہ مردود آئندہ ہمارے ساتھ بِغیر بسم اللہ والا کھانا بھی اس ڈر سے نہ
کھائے کہ شاید یہ بیچ میں بسم اللہ پڑھ لے اور مجھے قے کرنی پڑ جائے۔ حدیثِ پاک
میں جس آدمی کا ذِکْر ہے غالِباً وہ اکیلا کھا رہا تھا اگر حُضورِ اکرم صلی اللہ
تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ
کھاتا تو بسمِ اللہ نہ بھولتا کیوں کہ وَہاں تو حاضِرین بسم اللہ بُلند آواز سے
کہتے تھے اور ساتھ والوں کو بسم اللہ کہنے کاحُکْم کرتے تھے۔(مِراٰۃ
شرحِ مشکوٰۃ ج۶ ص۳۰)
(۱) آقا نے
آنکھوں کو روشن فرمادیا !
حضرتِ سیِّدُنا محمد بن مُبارَک حربی
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے ،علی ابوالکبیر علیہ رحمۃ اللہ القدیر نابینا
تھے ، خواب میں جنابِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دیدارِ فیض
آثار سے فیضیاب ہوئے ،میٹھے میٹھے مصطَفےٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
اُن کی آنکھوں پر اپنا دستِ شِفاء پھیرا ،صُبْحْ اُٹھے تو آنکھیں روشن ہوچکی تھیں
۔ (مُلخَّص از حُجَّۃُ اللہِ عَلَی الْعٰلَمِین ج ۲ ص ۵۲۶)
آنکھ عطا
کیجئے اُس میں ضیاء دیجئے
جلوہ قریب آگیا تم پہ کروڑوں
دُرُود
(۲)آقا نے
گِلٹِیوں کا عِلاج فرمادیا
حضرتِ سیِّدُنا تَقِیُّ الدّینابو محمد عبدالسّلام علیہ رحمۃُ ربّ ِالْاَ
نام فرماتے ہیں ،''میرے بھائی ابراھیم کے گلے میں خَنازِیر (یعنی گِلٹیاں )ہوگئی
تھیں ،شدَّتِ درد کے سبب بے قرار تھے ،خواب میں سرکارِ نامدار صلی اللہ تعالیٰ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کرم فرمایا ، عرض کیا ،یا رسولَ اللہ !عَزَّوَجَلَّ و صلی
اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیماری کے سبب سخت تکلیف میں ہوں ۔ فرمایا
،''تمہاری فریاد سُن لی گئی ہے ''۔ اَلْحمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بَر َکت سے میرے
بھائی کو شِفاء حاصِل ہوگئی ۔(اَیْضاً ص ۵۲۶)
سرِ بالیں
اُنہیں رَحْمت کی ادا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بیمار کی
بن آئی ہے
(۳) آقا کے کرم
سے د مّہ کے مریض کو شِفا ء ملی
ایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ،میں سخت بیمار تھا اوراپنے
مکان کی نِچلی منزِ ل پر صاحبِ فِراش (یعنی بچھونے پر پڑا)تھا ،میر ے ضعیفُ العمر
والدِ گرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ضِیْق النَّفَس (یعنی دَمّہ)کے مرض کی شدّت کے
باعث اوپر کی منزل پر بستر میں تھے ۔نہ میں اوپر چڑھ سکتا تھا نہ وہ بے چارے نیچے
اُتَر پاتے تھے ۔ اَلْحمدُ لِلّٰہ عَزّوَجَلَّ خوش
قسمتی سے میں ایک رات سرورِکائنات ،شاہِ موجودات ، سراپا
بَرَکات ، منبعِ عنایات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت سے مُشَرَّف
ہوا ،میں نے سرکارِ نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں تکیہ
پیش کیا ،سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ٹیک لگاکر تشریف فرماہوئے ،میں
نے اپنی اور اپنے ضعیف العُمر والِد صاحِب کی بیماری کے بارے میں فریاد کی ۔میری
فریاد سُن کر سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اوپر کی منزل پر
تشریف لے گئے ۔جب نمازِفجرْ کا وقت ہوا تو میرے کانوں میں آہ ! آہ!کی آواز آئی ،
دراصل میرے والدِ محترم سیڑھیوں سے نیچے اُتر رہے تھے ، میرے پاس آکر فرمانے لگے ،
بیٹا! کرم بالائے کرم ہوگیا ، آج شب رَحْمتِ عالَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے مجھ پر کرم فرمادیا ۔میں نے عرض کیا،ابّا جان ! سرکار صلی اللہ تعالیٰ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھ گنہگار کے پاس ہی سے ہوکر آپ کونوازنے کیلئے اوپر کی منزِل
پر جلوہ آراء ہوئے تھے ۔ اَلحَمدُلِلّٰہِ عَلیٰ اِحْسانِہٖ اس
کے بعد محبوبِ ربُّ العزّت ، تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ،مَنبعِ جود و
سخاوت ،سراپا رَحْمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بَرَکت سے ہم دونوں
رُوبہ صحّت ہوگئے ۔ (اَیْضاً ص ۵۲۷)
مریضانِ جہاں
کو تم شِفاء دیتے ہو دم بھر میں
خدارا دَرْد کا ہو
میرے دَر ماں یا رسو لَ اللہ
(۴)آ قا نے
بَرْص کا عِلاج فرمایا
حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو اسحق رحمۃ اللہ
تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ،میرے کندھے پر بَرْص (کَوڑھ)کا داغ پیدا ہوگیا ، اَلْحمدُلِلّٰہ
عَزَّوَجَلَّ خواب میں جنابِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا
دیدار ہواتو میں نے اپنے مرض کی شکایت کی ۔سرکارِ نامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے دستِ شِفاء پھیرا ،صُبحْ جاگا تو اَلْحمدُلِلّٰہ
عَزَّوَجَلَّ بَرْص کانام و نِشان تک نہ تھا ۔ (اَیْضاً ص ۵۳۱)
مرضِ عصیاں کی ترقّی سے ہُوا ہوں جاں
بَلَب
مجھ کو
اچھّا کیجئے حالت
مِری اچھّی نہیں
(۵) آقا نے ہاتھ
کے آبلے دُرُست کر د یئے
ایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں ،حضرتِ حَمّاد رحمۃ اللہ
تعالیٰ علیہ کے ہاتھوں میں آبلے پڑکر پھٹ گئے تھے ، طبیبوں نے مُتَّفِقَہ طور پر
رائے دی کہ ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔حضرتِ سیِّدُنا حَمّاد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
فرماتے ہیں ،وہ رات میں نے انتہائی کَرب و اِضْطِراب کے عالَم میں گھر کی چھت پر
گزاری ،اور گِڑگِڑا کر بارگاہِ خُداوندی عَزَّوَجَلَّ میں دعائے شِفاء کی ۔ جب
سویا اور ظاہِری آنکھ بند ہوئی تو دل کی آنکھ کھُل گئی ، اَلْحَمدُ
لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تاجدارِ رسا لت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کی خواب میں زِیارت ہوئی ،میں نے عرض کی ،یا
رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم میرے ہاتھ پر چشمِ کرم فرمائیے۔فرمایا ! ہاتھ پھیلاؤ ،میں نے
پھیلادیا تو سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنا دستِ مُبارَک پھیر
دیا اور فرمایا ،کھڑے ہوجاؤ !جب کھڑا ہو اتو اَلْحَمدُ
لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میٹھے میٹھے مصطَفےٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی بَرَکت سے میرے ہاتھ کی بیماری ختْم ہوچکی تھی۔ (اَیْضاً ص۵۲۸)
یہ مریض مر
رہا ہے تِرے ہاتھ میں شِفاء ہے
اے
طبیب جلد آنا
مَدَنی مدینے والے
وَسوَسہ : صِرْف اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی
شِفا ء دینے والا ہے مگر ان حِکایات کو سُن کر وَسوَسے آتے ہیں کہ کیا اللہ
عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ بھی کوئی شِفاء دے سکتا ہے ؟
عِلاجِ وَسوَسہ : بے شک ذاتی طور پر
صِرْف اور صِرْ ف اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی شِفا ء دینے والا ہے ،مگراللہ عَزَّوَجَلَّ
کی عطا سے اُس کے بندے بھی شِفادے سکتے ہیں ۔ ہاں اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی دی ہوئی طاقت کے بِغیر فُلاں دوسرے کو شِفاء دے سکتا ہے تو یقینا
وہ کافِرہے ۔کیوں کہ شِفاء ہو یا دواء ایک ذرّہ بھی کوئی کسی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ
کی عطا کے بِغیر نہیں دے سکتا ۔ہر مسلمان کا یِہی عقیدہ ہے کہ انبِیاء و اَولیاء عَلَیھِمُ
السّلام و رَحِمَھُمُ اللہُ تعالیٰ جو کچھ بھی دیتے ہیں وہ مَحْض اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے
دیتے ہیں، معاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ نے کسی نبی یا ولی کو مرض سے شفا دینے یا کچھ عطا کرنے کا اختیا ر ہی
نہیں دیا ۔تو ایساشخص حُکمِ قراٰ نی کو جھٹلا رہا ہے ۔پ ۳سورہ اٰ لِ عمران کی آیت نمبر ۴۹
اور اُس کا تَر جمہ پڑھ لیجئے اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وَسوَسہ
کی جڑ کٹ جائے گی اور شیطان ناکام و نامُراد ہوگا۔ چُنانچِہِ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ
روحُ اللہ عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام کے
مُبارک قَول کی حِکایت کرتے ہوئے قراٰنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے :۔
وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ
وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ ۚ
ترجَمہ کنزُالایمان: اور میں شِفا دیتا
ہوں مادرزاد اندھوں اور سفید داغ والے (یعنی کوڑھی)کو اور میں مُردے جِلاتا ہوں
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے ۔ (پ۳
سورہ اٰلِ عمران آیت نمبر ۴۹)
دیکھا آپ نے ؟ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلیٰ
نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام صاف صاف
فرمارہے ہیں کہ مَیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بخشی ہوئی قدرت سے مادر زاد اندھوں کو
بِینائی اور کوڑھیوں کو شِفا دیتا ہوں ۔ حتیٰ کہ مُردوں کو بھی زندہ کردیا کرتا
ہوں ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے انبِیاء عَلَیھِمُ السّلام کو طرح طرح کے
اختیارات عطاء کئے گئے ہیں اور فیضانِ انبیاء سے اَولیاء کو بھی عطاکئے جاتے ہیں
لہٰذا وہ بھی شِفا دے سکتے ہیں اور بَہُت کچھ عطا فرماسکتے ہیں ۔ جب حضرتِ
سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ
الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام کی یہ شان ہے تو آقائے عیسیٰ ،سردارِ
انبیاء ، میٹھے میٹھے مصطَفٰے صلی اللہ
تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شانِ عظمت نشان کیسی ہوگی ! یہ یاد رکھئے کہ سروَرِ
کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جَمیع مخلوقات اور جُملہ انبیاء و
مُرسلین عَلَیھِمُ السّلام کے کمالات کے جامِع ہیں ،بلکہ جس کو جوملا سرکار صلی
اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کے صَدقے ملا ۔
تو معلوم ہوا کہ جب سیِّدُنا عیسیٰ علیہ السلام مریضوں کو شِفا ء اندھوں کو
آنکھیں اور مُردوں کو زندگی دے سکتے ہیں تو سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم یہ سب بدَرَجہ اولیٰ عطا فرماسکتے ہیں ۔
حُسنِ یوسُف
دمِ عیسیٰ پہ نہیں کچھ مَوقُوف
صلی اللہ
تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
جس نے جو پایا ہے، پایا ہے بدولت
اُن کی(ذوقِ نعت)
76 ہزار نیکیاں
حضرتِ سیِّدُناابنِ مسعودرضی اﷲ تعالیٰ
عنہ ُسے رِوا یت ہے کہ تاجدارِ مدینہ منوَّرہ ،سردارِمکّہ مکرَّمہ، سروَرِ ہردَو
سَرا، محبوبِ کبریا عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ
فَرحَت نشان ہے، جو بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے
گا۔ اللہ تبارَکَ وَ تعالیٰ ہرحَرْف کے بدلے اُس کے نامہ اَعمال میں چار ہزار
نیکیاں درْج فر مائیگا، چار ہزارگناہ بخْش دیگا اور چار ہزار دَرَجات بُلند فرما
ئیگا ۔(فِردوسُ الأخبار ج۴ ص۲۶ رقم الحدیث ۵۵۷۳)
جھوم
جائیے!اپنے پیارے پیارے اﷲعَزَّوَجَلَّ کی رَحمت پرقربان ہوجائيے!!ذراحساب تو
لگائیے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں19حُرُوف
ہیں۔یوں ایک بار بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھنے
سے چِھہَتَّر ہزارنیکیاں ملیں گی ، چِھہَتَّر ہزار گناہ معاف ہونگے اور چِھہَتَّر
ہزار دَرَجات بُلندہونگے۔ وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیم۔ (یعنی
اوراللہ عَزَّوَجَلَّ صاحبِ فضلُ و عظمت ہے )
بوقتِ ذبح الرّحمن
الرّحیم نہ پڑھنے کی حِکمت
حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ
المنّان خدائے رحمن عَزَّوَجَلَّ کی رَحْمتِ بے پایاں کا تذکِرہ کرتے ہوئے فرماتے
ہیں، ''غور تو کرو کہ سورہ توبہ میں بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نہیں لکھی گئی اِسی طرح ذَبْحْ کے وَقْت
پوری بسم اﷲ نہیں پڑھتے بلکہ یوں کہتے ہیں بسم اللہِ
اَللہُ اَکبر، اِس میں کیا
حکمت ہے؟ حکمت یہ ہے کہ سورہ توبہ میں اوّل سے آخِر تک جِہاد اور قِتال کا ذِکر ہے
اور یہ کافِروں پر قَہْر ہے، اِسی طرح ذَبْحْ میں جانور کی جان لی جاتی ہے یہ بھی
جَبر وقَہر کا وَقْت ہوتا ہے اس موقع پر رَحْمت کاذِکْرنہ کرو ۔ سبحٰن
اﷲعَزَّوَجَلَّ توجو شخص پوری بسم اﷲ شریف (یعنی بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم) کا وِرْد کرے تو اِن
شاءَ اﷲ عَزَّوَجَلَّ خداکے غَضَب سے محفوظ رہے گا۔(تفسیرِ
نعیمی جلد اول ص ۴۳)
اُنّیس حُرُوف کی حکمتیں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کے19 حُرُوف ہیں اوردوزخ پرعذاب دینے والے فِرِشتے بھی اُنیّس۔پس
امّیدہے کہ اس کے ایک ایک حَرْف کی بَرَکت سے ایک ایک فِرِشتے کاعذاب
دورہوجائے۔دوسری خوبی یہ بھی ہے کہ دن رات میں24 گھنٹے ہیں جن میں سے پانچ گھنٹے
پانچ نمازوں نے گھیرلئے اور19 گھنٹوں کیلئے بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے اُنیس حُروف عطافرمائے گئے ۔ پس جو بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کاوِرْدکرتارہے، اِن
شاءَ اﷲ عَزَّوَجَلّ اس کاہرگھنٹہ عبادت میں شمارہوگااورہرگھنٹے کے گناہ
مُعاف ہوں گے۔
(تفسیر کبیر ج اول ص۱۵۶)
قبر سے عَذاب اُٹھ گیا
حضرتِ سیِّدُناعیسٰی رُوحُ اﷲ عَلٰی
نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلا م ایک قَبْرکے
قریب سےگزرے توعذاب ہو رہا تھا ۔ کچھ وَقْفہ کے بعد پھرگزرے تو مُلاحَظہ فرمایاکہ
اُس قَبْر میں نُورہی نُورہے اور وہاں رَحمَتِ اِلہٰی عَزَّوَجَلَّکی بارش ہورہی
ہے۔آپ علیہ السلام بَہُت حیران ہوئے اوربارگاہِ اِلہٰی عَزَّوَجَلَّمیں عرض کیا،کہ
مجھے اِس کا بَھید بَتایا جائے۔ ارشاد ہوا ،''اے عیسیٰ!(علیہ السلام )یہ شخص سخْت
گُنہگارہونے کے سبب عَذَاب میں گَرِفتا ر تھا،لیکن بوقتِ انتِقال اِس کی
بیوی''اُمّید ''سے تھی، اُس کے لڑکا پیدا ہو ا اور آج اُس کومکتب بھیجاگیا ،
اُستادنے اُس کوبِسم اﷲپڑھائی، مُجھے حَیاآئی کہ میں اُس شَخْص کو زَمین کے اندر عَذَاب دُوں کہ جس کابچّہ زَمین کے
اُوپرمیرا نام لے رہاہے۔'' (تفسیر کبیر ج اول ص۱۵۵) اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اے خدائے
مصطَفٰے میں، تری رحمتوں پہ قُرباں
ہو کرم سے میری بخشش ، بَطُفیلِ شاہِ
جِیلاں
سبحٰن اللہ عَزَّوَجَلَّ ،سبحٰن اللہ عَزَّوَجَلَّ ،سبحٰن اللہ
عَزَّوَجَلَّ! ہم سب کو چاہے کہ اپنے بچّوں کو ''ٹاٹا پاپا'' سکھانے کے بجائے ابتداء
ہی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لینا سکھائیں اور یہ نہیں کہ صِرْف مرنے والے
والِدَین کو ہی اس کی بَرَکتیں حاصِل ہوتی ہیں، خود سیکھنے اور سکھانے والے کو بھی
اِس کی بَرَکتیں نصیب ہوتی ہیں لھٰذا اپنے مَدَنی مُنّے اور مَدَنی مُنّی سے
کھیلتے ہوئے سکھانے کی نیّت سے اُن کے سامنے بار بار اللہ اللہ کرتے رہیں تو وہ
بھی اِن شاءَ اﷲ عَزَّوَجَلَّ زَبان کھولتے ہی سب سے پہلا لفظ
اللہ کہیں گے ۔
بچّےکی مَدَنی تربیّت کی
حکایت
حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ
تُسْتَری علیہ رحمۃُ اللہِ الْبَرّی فرماتے ہیں،
میں تین سال کی عمر کا تھا کہ رات کے وَقت اُٹھ کر اپنے ماموں حضرتِ سیِّدُنا محمد
بن سوار علیہ رحمۃالغفّار کونَماز پڑھتے دیکھتا، ایک دن انہوں نے
مجھ سے فرمایا،کیاتُو اُس اللہ تعالیٰ کو
یاد نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا فرمایا؟ میں نے پوچھا ، میں اسے کس طرح یاد کروں ؟
فرمایا، جب رات سونے لگو تو زَبان کو حَرَکت دیئے بِغیرمَحْض دل میں تین مرتبہ یہ
کَلِمَات(کَ۔لِ۔مات) کہو:۔
اَللہُ مَعِیَ ،اَللہُ نَاظِرٌ اِلَیَّ، اللہُ شَاھِدِی ۔
یعنیاللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے، اللہ تعالیٰ
مجھے دیکھتا ہے اللہ تعالیٰ میرا گواہ ہے۔ ۱ ؎
فرماتے ہیں، میں نے چند راتیں یہ کَلِمَات پڑھے اور پھر ان کو بتایا ۔
انہوں نے فرمایا، اب ہر رات سات مرتبہ پڑھو، میں نے ایسا ہی کیا اور پھر ان
کومُطَّلع کیا ۔ فرمایا، ہر رات گیارہ مرتبہ یہی کَلِمَات پڑھو۔ (فرماتے ہیں) میں
نے اِسی طرح پڑھا تو میرے دِل میں اس کی لَذّت معلوم ہوئی۔ جب ایک سال گزر گیا تو
میرے ماموں جان علیہ رحمۃ الحنّان نے فرمایا، میں نے جو کچھ تمہیں سکھایا ہے اسے
قَبْر میں جانے تک ہمیشہ پڑھتے رَہنا اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ یہ
تمہیں دنیا اور آخِرت میں نَفْع دے گا۔سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَری علیہ
رحمۃُ اللہِ الْبَرّی فرماتے ہیں ، میں نے کئی سال تک ایساہی
کیا تو میں نے اپنے اندر اِس کا بے انتِہا مَزہ پایا۔ میں تنہائی میں یہ ذِکْر
کرتا رہا۔ پھر ایک دن میرے ماموں جان علیہ رحمۃ الحنّان نے فرمایا، اے سَہْل! اللہ
تعالیٰ جس شخص کے ساتھ ہو، اسے دیکھتا ہو اوراس کا گواہ ہو، کیا وہ اس کی نافرمانی
کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ لھٰذا تم اپنے آپ کو گناہ سے بچاؤ ۔ پھرماموں جان علیہ رحمۃ
الحنّان نے مجھے مکتب میں بھیج دیا ۔ میں
نے سوچا کہیں میرے ذِکْر میں خَلَل نہ آجائے لہٰذا اُستاذ صاحِب سے یہ شَرْط
مقرَّر کر لی کہ میں ان کے پاس جا کر صِرْف ایک گھنٹہ پڑھوں گا اور واپَس آ جاؤں
گا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے مکتب
میں چھ یا سات برس کی عمر میں قراٰن پاک حِفْظ کرلیا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں روزانہ روزہ رکھتا تھا۔ بارہ
سال کی عمر تک میں جَو کی روٹی کھاتا رہا ۔تیرہ سال کی عمر میں مجھے ایک مَسئلہ
(مَس۔ء َ۔لَہ)پیش آیا ۔ اس کے حل کیلئے گھر والوں سے اجازت لیکر میں بصرہ آیا اور
وہاں کے عُلَماء سے وہ مَسئلہ پوچھا، لیکن ان میں سے کسی نے بھی مجھے شافی جواب نہ
دیا۔ پھر میں عَبَّادَان کی طرف چلا گیا ۔ وہاں کے مشہور عالمِ دین حضرتِ سیِّدُنا
ابو حبیب حمزہ بن ابی عبداللہ عَباّدانی قُدِّسَ
سِرُّ ہُ الرَّبّانی سے میں نے مَسئلہ پوچھا تو انہوں نے مجھے تسلّی بخش
جواب دیا۔میں ایک عَرصہ تک ان کی صُحبت میں رہا، ان کے کلام سے فیض حاصِل کرتا اور
ان سے آداب سیکھتا پھر میں تُسْتَر کی طرف آگیا ۔ میں نے گزارہ کا انتِظام یوں کیا
کہ میرے لیے ایک دِرْہَم کے جَو شریف خریدلئے جاتے اور انہیں پیس کر روٹی پکالی
جاتی۔ میں ہر رات سَحَری کے وَقْت ایک اُوْقِیَہ (یعنی تقریباً 70 گرام)جَو کی
روٹی کھاتا ، جس میں نہ نمک ہوتا اور نہ ہی سالن۔ یہ ایک دِرہم مجھے سال بھر کیلئے
کافی ہوتا ۔پھر میں نے ارادہ کیا کہ تین دن مسلسل فاقہ کروں گا اور اس کے بعد کھاؤں گا۔ پھر پانچ دن،پھر سات دن اور
پھر پچیس دنوں کا مسلسل فاقہ رکھا ۔( یعنی 25 دن کے بعد ایک بار کھانا کھاتا۔)بیس
سال تک یِہی طریقہ رہا پھر میں نے کئی سال تک سَیروسیاحت کی، واپَس تُسْتَر آیا تو
جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا شب بیداری اِختیار کی۔ حضرتِ سیِّدُناامام احمدعلیہ
رحمۃُ الاحد فرماتے ہیں، میں نے مرتے دم تک سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَری علیہ
رحمۃُ اللہِ الْبَرّی کو کبھی نَمَک استِعمال کرتے ہوئے نہیں
دیکھا۔ (اِحیاءُ العُلُوم ج۳ ص ۹۱) اﷲ
عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
۱ ہوسکے تو یہ کلِمات لکھ کر
گھر اور دُکان وغیرہ میں ایسی جگہ آویزاں کر دیجئے جہاں آپکی نظر پڑتی رہے۔
بُخار کی علاج
مُنقول ہے، ایک شخص کو بخار آ گیا، اُس
کے استاذِ محترم حضرت شیخ فقیہ ولی عمر بن سعید علیہ رحمۃُ اللہِ المُعید عِیادت
کیلئے تشریف لائے، جاتے ہوئے ایک تعویذ عنایت کر کے فرمایا ، اِس کو کھول کر
دیکھنا مت۔ اُن کے جانے کے بعد اُس نے تعویذ باندھ لیا، فوراً بخار جاتا رہا۔ اُ س
سے رہا نہ گیا،کھول کر جو دیکھاتو بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
لکھا تھا۔دل میں وَسوَسہ آیا ، یہ تو کوئی بھی لکھ سکتاہے! عقیدت میں
کمی آتے ہی فوراً بخار لوٹ آیا ۔ گھبرا کرحضرت کی خدمت میں حاضِر ہو کرغَلَطی کی
مُعافی چاہی۔ اُنہوں نے تعویذ بنا کر اپنے دستِ مبارَک سے باندھ دیا ، بخار فوراً
چلا گیا ۔ اب کی بار دیکھنے کی مُمانَعَت نہ فرمائی تھی مگر ڈرکے مارے کھول کر نہ
دیکھا ۔ بِالآخِر سال بھر کے بعد جب کھول کر دیکھا تو وُہی بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم تحریر تھی۔ اﷲ عَزَّوّجَلَّ
کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
''یا نبی'' کے پانچ
حُرُوف کی نسبت سے بُخا ر کے ۵ مَدَنی علاج
لَا یَرَوْنَ فِیۡہَا شَمْسًا
وَّ لَا زَمْہَرِیۡرًا ﴿ۚ۱۳﴾ (ترجَمَہ کنزالایمان: نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے نہ
ٹھٹھر (یعنی سردی )پ ۲۹ اَلدَّھْر ۱۳) یہ آیت کریمہ سات بار(اوّل آخِرایک
بار دُرُود شریف)پڑھ کر دم کیجئے اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بخار
کی شدّت میں نُمایاں کمی محسوس ہو گی اور مریض سُکون محسوس کریگا۔ (ترجمہ پڑھنے کی
ضَرورت نہیں)
(۲) حضرتِ سیِّدُنا اما م جعفر صادِق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ،
سورۃُ الفاتحہ 40 بار (اوّل آخِرایک بار دُرُود شریف) پڑھ کر پانی پر دم کر کے
بخار والے کے منہ پر چھینٹے ماریئے اِن شاءَ اللہ عَزَّوجَلَّ بُخار
چلا جائے گا۔
(۳)سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدارصلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو
بخار تھا توحضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ ا مین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ دعاء پڑھ کر
دم کیا تھا :
بِسْمِ اللہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ یُّوْ ذِ یْکَ وَ مِنْ شَرِّ
کُلِّ نَفْسٍ اَوْعَیْنٍ حَاسِدٍ ؕ اَﷲُ یَشْفِیْکَ بِسْمِ اللہِ اَرْ قِیْکَ
(ترجمہ: اﷲعَزَّوَجَلَّ کے نام سے آپ پر دم کرتا
ہوں ہر اُس بیماری کیلئے جو آپکو ایذا دیتی ہے اور دوسروں کے شر اور حسد کرنے
والوں کی بُری نظر سے ۔ اﷲ عَزَّوَجَلَّ آپ کو شفا عطا فرمائے۔میں آپ پر اﷲ کے نام
سے دم کرتا ہوں۔)
(مسلم ص۲۰۲ ۱ رقم الحدیث ۲۱۸۶) بخار کے مریض کوصِرْف عَرَبی میں دعا (اول آخِرایک بار دُرُود
شریف)پڑھ کر دم کر دیجئے۔
(۴)بخار والا بکثرت بِسْمِ اللہِ الْکَبِیْرِ پڑھتا
رہے ۔
(۵)حدیثِ پاک میں ہے ، جب تم میں سے کسی کو بخار آجائے تو اُس پر تین دن
تک صبح کے وَقت ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے جائیں۔(اَلْمُسْتَدْرَک
لِلحاکِم ج ۴ ص ۲۲۳ رقم الحدیث ۷۴۳۸)
دردِسر کا علاج
قیصرِرُوم نے امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ
سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو خط لکھاکہ مجھے دائِمی دردِسرکی
شکایت ہے اگرآپ کے پاس اِس کی دواہوتوبھیج دیجئے!حضرتِ سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رضی
اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُس کوایک ٹوپی بھیج دی قیصرِرُوم اُس ٹوپی کوپہنتاتو اسکا درد
ِسر کافُورہوجاتااورجب سرسے اُتارتا تودردِ سر پھرلوٹ آتا۔اسے بڑا تعجُّب ہوا ۔
آخِرِکاراُس نے اس ٹوپی کواُدھیڑاتواس میں سے ایک کاغذ برآمدہوا جس پر بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھاتھا۔(اسرار الفاتحہ
ص ۱۶۳،تفسیر کبیر ج اول ص۱۵۵)
بسم اللہ سے علاج کا
طریقہ
اِس حِکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس
کو دردِ سر ہو وہ ایک کاغذ پر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
لکھ کریا لکھوا کر اُس کا تعویذسر پر باندھ لے ۔ لکھنے کا طریقہ یہ ہے
کہ اَنْمِٹ سیاہی مَثَلاً بال پوائنٹ سے لکھئے اور بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے ہ اور تینوں ''م'' کے دائرے کُھلے
رکھئے، تعویذ لکھنے کا اُصول یہ ہے کہ آیت یا عبارت لکھنے میں ہر دائرے والے حَرْف
کا دائرہ کُھلا ہو یعنی اِس طرح مَثَلاً ط،ظ ، ہ، ھ،ص، ض، و،م،ف،ق وغیرہ۔ اِعراب
لگانا ضَروری نہیں، لکھ کر موم جامہ (یعنی موم میں تر کئے ہوئے کپڑے کا ٹکڑا لپیٹ
لیں )یا پلاسٹک کوٹنگ کر لیں پھر کپڑے ، ریگزین یا چمڑے میں تعویذ بنا لیں، اور سر
پر باندھ لیں جن کو عِمامہ شریف کا تاج سجانے کی سعادت حاصل ہے وہ چاہیں تو عمامہ
شریف کی ٹوپی میں سی لیں۔ اِسی طرح بہنیں دوپٹےّ یابُرقع کے اُس حصّے میں سی لیں
جو سر پر رہتا ہے۔ اگر اِعتِقادکامِل ہو گا تو اِن شاءَ اﷲ
عَزَّوَجَلَّ دردِ سر جاتا رہے گا۔ سونے یا چاندی یا کسی بھی دھات کی ڈِبیہ میں
تعویذ پہننا مرد کو جائز نہیں۔ اِسی طرح کسی بھی دھات کی زَنجیر خواہ اُس میں
تعویذ ہو یا نہ ہو مرد کو پہننا ناجائز و گناہ ہے۔اِسی طرح سونے ، چاندی اور اسٹیل
وغیرہ کسی بھی دھات کی تختی یا کڑا جس پر کچھ
لکھا ہوا ہویا نہ لکھا ہوا ہو اگر چہ اللہ کا مبارَک نام یا کلِمہ طیِّبہ وغیرہ
کُھدائی کیا ہوا ہو اُس کاپہننا مرد کیلئے ناجائز ہے۔ عورت سونے چاندی کی ڈِبیہ
میں تعویذ پہن سکتی ہے ۔
یااللہ کے چھ حُرُوف کی
نسبت سے آدھے سر کے درد کے 6 علاج
(۱) اگر کسی کو آدھے سر کا دَرْد ہو تو ایک بار سورۃُ الْاِ خلاص (اوّل
آخِر ایک بار دُرُود شریف)پڑھ کر دم کیجئے، حسبِ ضَرورت تین بار، سات بار یا گیارہ
بار اِسی طرح دم کیجئے۔ گیارہ کا عد د پورا ہونے سے قَبل ہی اِن
شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ آدھے سر کا دَرْد ٹھیک ہو جائیگا۔
(۲)جب دَرْد ہو رہا ہواُس وقت سُونٹھ(یعنی سوکھی ہوئی ادرک جو کہ
پَنْساری یعنی دیسی دواء والوں سے مل سکتی ہے)کو تھوڑے سے پانی میں گِھس کر سُونٹھ
کا گِھسا ہوا حصّہ پیشانی پر ملنے سے اِن شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ آدھے
سر کا دَرْد جاتا رہے گا۔(۳)
خشک دَھنیا کے تھوڑے دانے اور تھوڑی سی کِشمِش ۱ ؎مٹکے کے ٹھنڈ ے یا سادہ پانی میں چندگھنٹے بھگو کر پینے سے اِن
شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ فائدہ ہو گا۔
(۴) گَرْم دودھ میں دیسی گھی
ملا کر پینے سے بھی فائدہ ہو تا ہے۔
(۵) ناریْل کا پانی پینے سے آدھا سیسی(یعنی آدھے سر کادَرْد)اور پورے سر
کے دَرْد میں کمی آتی ہے۔
(۶) نیم گرم پانی کے بڑے برتن میں نمک ڈال کر دونوں پاؤں ۱۲ مِنَٹ کیلئے اُس میں ڈالے رہیں اِن
شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ فائِدہ ہو جائیگا۔(ضَرورتاً وَقْت میں کمی بَیشی کر
لیجئے)
۱ یعنی سوکھے ہوئے چھوٹے
انگور جس کو پنجابی میں "سوگی"کہتے ہیں۔
یامصطَفٰے کے سات حُرُوف
کی نِسبت سے دردِ سرکے سات علاج
لَّا یُصَدَّعُوۡنَ عَنْہَا وَلَا یُنۡزِفُوۡنَ
﴿ۙ۱۹﴾ (ترجَمَہ
کنزالایمان:نہ انہیں دردِسر ہو نہ ہوش میں فَرق آئے۔ (پ ۲۷
الواقِعہ ۱۹) یہ آیتِ کریمہ
تین بار (اوّل آخِرایک بار دُرُود شریف)پڑھ کر دردِ سر والے پر دم کر دیجئے ۔ اِن شاءَ اﷲ عَزَّوَجَلَّ فائِدہ
ہو جائیگا۔(ترجَمہ پڑھنے کی ضَرورت نہیں)
(۲) سورۃُ النّاس سات بار (اوّل آخِرایک بار دُرُود شریف)پڑھ کر سر پر
دم کیجئے ، اور پوچھئے، اگرابھی دَرْد باقی ہو تو دوسری بار بھی اِسی طرح دم کیجئے
۔ اگر اب بھی دَرْد ہو تو تیسری بار بھی اِسی طرح دم کیجئے۔پورے سر کا دَرْد ہو یا
آدھے سرکا کیسا ہی شدید دَرْد ہو تین بار میں اِن شاءَ
اﷲعَزَّوَجَلَّ جاتا رہے گا۔
(۳) پورے سر کا دَرْد ہو یا شَقِیقہ(یعنی آدھے سر کا دَرد)بعد نمازِ
عَصْرْ سورۃُ التَّکاثُر ایک بار (اوّل آخِرایک بار دُرُود شریف)پڑھ کر دم کیجئے
اِن شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ دَرْد میں اِفاقہ ہوگا۔
(4)زَبان پر ایک چٹکی نمک رکھ کر ۱۲ مِنَٹ کے بعد ایک گلاس پانی پی لیں سر
میں کیسا ہی دَرْد ہو اِن شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ اِفاقہ ہو جائیگا۔(ہائی بلڈ پریشر
کے مریض کیلئے نمک کا استِعمال نقصان دِہ ہو تا ہے۔)
(۵)ایک کپ پانی میں ایک چَمَّچ ہَلدی ڈال کر جوش دیکر پینے یا بھاپ لینے
سے اِن شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ سر کا دَرْد دُور ہو جائیگا۔(سالَن وغیرہ میں ہَلدی
ضَرور استِعمال کیجئے، روزانہ ایک گرام(یعنی چٹکی بھر)ہَلدی کھانے والا
اِن شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ کینسر سے محفوظ
رہے گا)
(۶)دیسی گھی میں تلی ہوئی ، گَرْما گرم تازہ جلیبیاں طُلوعِ آفتا ب سے قبل
کھانے سے اِن شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ درد ِسر میں آرام آ جائے گا۔
(۷)کبھی اِتِّفاقیہ دردِ سَر ہو جائے تو کھانا کھانے کے بعد ڈسپرین (DISPIRIN)کی
دو ٹِکیہ پانی میں گھول کر پی لیجئے ان شاءَ اﷲ عَزَّوَجَلَّ ٹھیک ہو جائے گا۔(ہر
طرح کے دَرْد کی ٹکیہ کھانا کھانے کے بعد ہی استِعمال کی جائے ورنہ نقصان کا
اندیشہ ہے)
مَدَنی مشورہ: اگر دواؤں سے دردِ سر
ٹھیک نہ ہوتا ہو تو آنکھیں ٹیسٹ کروا لیجئے اگر نظر کمزور ہو تو عینک پہننے
سے اِن شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ دردِ سر ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر بھی ٹھیک نہ ہو تو دِماغ
کے خُصوصی ڈاکٹر سے رُجوع کرنا ضَروری ہے۔ اس میں کوتاہی بعض اوقات سخت نقصان دہِ
ثابِت ہوتی ہے۔
نَکسیر پُھوٹنے کا علاج
اگر کسی کی نکسیر پھوٹ جائے اور خون
بہنے لگے تو شہادت کی انگلی سے پیشانی پر سے بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھنا شروع کر کے ناک کے آخِر پر ختْم کرے
اِن شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ خون بند ہو جائے گا۔
دَوا کی حکایت
حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ
المنّان فرماتے ہیں ، جو بیمار بسم اﷲ کہہ کر دواء پئے ان شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ دوا
فائدہ دیگی ۔ ایک بار حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اﷲ عَلٰی
نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلا م کے پیٹ میں
نہایت سخت درد ہوا ، حق تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ ارشاد ہوا کہ جنگل کی فُلاں
بُوٹی کھاؤ۔ چُنانچِہ آپ علیہ السلام نے کھائی اور فوراً آرام ہو گیا ۔کچھ دنوں بعد پھر وُہی بیماری
ہوئی ، حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اﷲ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ
الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام نے پھر وُہی استِعمال کی مگر درد میں
زیادَتی ہو گئی! جنابِ باری عَزَّوَجَلَّ میں عرض کیا کہ الہٰی ! یہ کیا بَھید ہے
کہ دوا ایک تاثیر دو !کہ پہلی بار اس نے شِفا دی اور اس دَفْعَہ(دَفْ۔عَہ)بیماری
بڑھائی ! ارشادِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ ہوا کہ اے موسیٰ! اُس بار تم میری طرف سے
بُوٹی کے پاس گئے تھے اوراِس دَفْعہ اپنی طرف سے ۔ اے موسیٰ ! شِفا تو میرے نام میں ہے میرے نام کے بِغیر دنیا کی ہر چیز زہرِ
قاتِل ہے اور میرا نام ہی اِس کا تِریاق (یعنی علاج)ہے۔ (تفیسرِ نعیمی ج اول ص ۴۲) اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
دوا پر نہیں خُدا عزّوجل
پر بھروسہ رکھئے
معلوم ہوا کہ بھروسہ دواء پر نہیں خدا
عَزَّوَجَلَّ پر رکھنا چاہے۔ اگر اﷲ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو ہی دواء سے شِفا ملے گی
وہ نہ چاہے تو یِہی دواء بیماری بڑھنے کا سبب بن جائیگی اور عام مشاھَدہ ہے کہ ایک
ہی دوا ء سے ایک بیمار صحّت مَند ہو جاتا ہے اور وُہی دواء جب دوسرا مریض پیتا ہے
تو اُس کومَنفی اثر(REACTION)ہو جاتا اور مزید سخْت اَمراض میں مُبتلا یا
معذور ہو جاتا یا موت کے گھاٹ اُتر جاتا ہے ۔ جب بھی دواء پئیں تو بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ لیجئے یا بسمِ اللہِ
شافِی بسمِ اللہِ کافی کہہ لیجئے۔
رُوح کی سیرانی
اﷲتعالیٰ نے حضرتِ سیِّدُناموسیٰ کلیمُ
اﷲ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلا م کی
طرف وَحْی نازِل فرمائی کہ'' دنیاسے ہررُوح پیاسی جاتی ہے سوائے اُسکے جس نے بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھا ہوگا۔''(اسرار الفاتحہ
ص۱۶۲)
عُمدگی سے پڑھنے کی فضیلت
حضرتِ مولائے کائنات علیُّ المرتضیٰ
شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ
وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے رِوایت ہے،''ایک شَخْص نے بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کوخوب عُمدَگی سے پڑھا،اُس کی بخشِش
ہوگئی ۔''(شُعُبُ الایمان ج۲ص۵۴۶ رقم الحدیث ۲۶۶۷)
نامِ خُدا عزّوجل کی
مٹھاس باعثِ نَجات ہے
ایک گناہ گارکومرنے کے بعدکسی نے خواب
میں دیکھ کرپوچھا، مَافَعَلَ اللہُ بِکَ؟ یعنی اﷲ
عَزَّوَجَلَّ نے تیرے ساتھ کیامعامَلہ فرمایا؟اُس نے جواب دیا،ایک بار میں ایک
مدرَسے کیطرف سے گزرااورایک پڑھنے والے نے بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھی،سُن کرمیرے دل میں اللہ
عَزَّوَجَلَّ کے میٹھے میٹھے نام کی مٹھاس نے اثرکیااوراُسی وقت میں نے یہ غیبی
آواز سُنی،''ہم دو چیزوں کو جمع نہ کریں گے (۱)اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے نام کی لذَّت(۲)موت کی تَلخی۔'' (انیس الواعِظین ص ۴) اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حکایت سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ
کے نامِ نامی اِسمِ گرامی سے لذّت اندوز ہونے والا، رَحمتوں کے سائے میں دنیا سے
رخصت ہوتا ہے اور موت اُس کے لئے نجات وبخشش کا پیام لاتی
ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت بَہُت بڑی ہے، وہ نکتہ نواز ہے ، بظاہر معمولی
نظر آنے والے اعمال کے سبب بڑے سے بڑے گنہگاروں کو بخش دیا جاتا ہے۔
رَحمتِ حق ''بَہاَ''نہ
مِی جُوید رَحمتِ حق ''بَہانہ'' مِی جُوید
(اﷲ عَزَّوَجَلَّ کی
رَحمت''بَہاَ''(یعنی قیمت)طلب نہیں کرتی بلکہ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت تو بَہاَنہ تلاش کرتی ہے۔)
قِیامت کے لئینِرالی
سَنَد
حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ
المنّان فرماتے ہیں ،''تفسیر عزیزی'' میں بسم اﷲ کے فوا ئد میں لکھا ہے کہ ایک
ولیُّ اﷲرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مرتے وَقْت وصیّت کی تھی کہ میرے کفن میں بِسْمِ
اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھ کر رکھ دینا۔ لوگوں نے اس کی وجہ
پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ قِیامت کے دن یہ میری دستا و یز (یعنی تحریری
ثُبوت)ہو گی جس کے ذَرِیْعہ سے رَحْمتِ الہٰی عَزَّوّجَلَّ کی درخواست کروں گا۔''(تفیسرِ
نعیمی پارہ اوّل ص ۴۲)اﷲ عَزَّوّجَلَّ
کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
ملیگا
دونوں عالَم کا خزانہ پڑھ لو
بِسمِ اللہ
خدا چاہے تو ہو جنّت ٹھکانہ
پڑھ لو بِسمِ اللہ